مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کے چیف ایگزیکٹو امین الناصر نے اعتراف کیا ہے کہ سعودی تیل کی تنصیبات پر حملوں کے باعث تیل کی پیداوار متاثر ہوئی ہے، جبکہ عالمی توانائی منڈی بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔
تفصیلات کے مطابق، رائٹرز کے حوالے سے امین الناصر نے کہا کہ دنیا کو اب تک 2.6 ارب بیرل سے زائد تیل کی کمی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اگر روزانہ 2.1 ملین بیرل کی رفتار سے ذخائر کی دوبارہ تکمیل کی جائے تو عالمی تیل کے ذخائر کو بحال کرنے میں تقریباً 18 ماہ درکار ہوں گے۔
آرامکو کے سربراہ نے کہا کہ تیل کی سپلائی اور ترسیل کے نظام میں تبدیلی کے لیے مختلف اقدامات کے باوجود عالمی ذخائر میں کمی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
امین الناصر نے مزید کہا کہ سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے نتیجے میں خام تیل کی پیداوار میں خلل آیا، جس کے اثرات عالمی توانائی منڈی پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔
آپ کا تبصرہ